MOJ E SUKHAN

کیوں سب کو دلبر بولتے ہیں ؟

کیوں سب کو دلبر بولتے ہیں ؟
سنا ہے ہم نے اکثر بولتے ہیں

مقدر کے سکندر بولتے ہیں
جو دل کے ہوں قلندر بولتے ہیں

نہیں جو تولتے لفظوں کو اپنے
ہلاہل زہر خنجر بولتے ہیں

انھیں ہم دوست کیسے اپنا کہہ دیں
جو جھوٹی قسمیں کھا کر بولتے ہیں

ہمیں تو سیدھے رستے ہر ہے چلنا
تبھی حق بات منہ پر بولتے ہیں

نہیں تہذیب، کب پاسِ ادب ہے
"وہ اپنی حد سے بڑھ کر بولتے ہیں "

ہم اپنے آپ میں سلمیٰؔ مگن ہیں
ہم اپنے دل کے اندر بولتے ہیں

سلمیٰ رضا سلمیٰؔ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم