MOJ E SUKHAN

کیوں نہیں جاتے کبھی تم کوچہء دلدار میں

کیوں نہیں جاتے کبھی تم کوچہء دلدار میں
کیا پریشانی ھے تم کو عشق کے اظہار میں

مُعترف سارا زمانہ ہے تُمہارے عشق کا
پھر بھلا کیسا تامُل ہے تُمیں اقرار میں

اُن کی آنکھیں برملا اقرار کرتی ہیں مگر
کس قدر لزّت چھُپی ہے ان کے اس انکار میں

تُم نہ مانو اور منائے کوئی تُم کو بار بار
لُطف آتاہےتُمہیں بس اُن کے یوں اسرار میں

ہے عجب منطق کہ تُُم کو بار ہا کہتے سُنا
جو مزہ انکار میں ہے ، وہ نہیں اقرار میں

آ گیا کیا راس تُم کو دشتِ تنہائی ، کہو
کِس طرح پھرتے ہو تنہا اِس بھرے سنسار میں

ایک وعدہ کیجئے “ شہناز رضوی “ خود سے آپ
پھونک کر رکھنا قدم ہر جادہء پُر خار میں

شہناز رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم