غزل
کیوں کہا پاس ترے آئنۂ دل نہ رہے
کیا یہ خواہش ہے کوئی تیرا مقابل نہ رہے
طالب درد کو مطلوب ہے سامان تپش
نشتر غم رہے پہلو میں اگر دل نہ رہے
ان کی یہ ضد ہے نرالی کہ مرے سینہ میں
دل وارفتہ رہے آرزوئے دل نہ رہے
ہاتھ بسمل نے بڑھایا ہے لپٹ جانے کو
کہ کفن بن کے رہے دامن قاتل نہ رہے
رہرو راہ محبت کو ہدایت یہ ہے
جادہ پیمائی رہے حسرت منزل نہ رہے
خانۂ دل میں اترنے کا یہ مطلب ٹھہرا
میہماں بن کے رہے خنجر قاتل نہ رہے
قتل عشاق سے قاتل کا یہ مطلب تو نہیں
غایت عشق و وفا عقدۂ مشکل نہ رہے
دے کے جاں اس لئے لیتا ہوں سکون خاطر
دائمی بن کے رہے دولت عاجل نہ رہے
کیوں خفا ہوتے ہو دیوانوں کی خواہش یہ ہے
نغمۂ عشق بنے شور سلاسل نہ رہے
نذر غم اس لئے کی جان حزیں بیدلؔ نے
اس کی گردن پہ کہیں منت قاتل نہ رہے
بیدل عظیم آبادی