MOJ E SUKHAN

کیوں کہا پاس ترے آئنۂ دل نہ رہے

غزل

کیوں کہا پاس ترے آئنۂ دل نہ رہے
کیا یہ خواہش ہے کوئی تیرا مقابل نہ رہے

طالب درد کو مطلوب ہے سامان تپش
نشتر غم رہے پہلو میں اگر دل نہ رہے

ان کی یہ ضد ہے نرالی کہ مرے سینہ میں
دل وارفتہ رہے آرزوئے دل نہ رہے

ہاتھ بسمل نے بڑھایا ہے لپٹ جانے کو
کہ کفن بن کے رہے دامن قاتل نہ رہے

رہرو راہ محبت کو ہدایت یہ ہے
جادہ پیمائی رہے حسرت منزل نہ رہے

خانۂ دل میں اترنے کا یہ مطلب ٹھہرا
میہماں بن کے رہے خنجر قاتل نہ رہے

قتل عشاق سے قاتل کا یہ مطلب تو نہیں
غایت عشق و وفا عقدۂ مشکل نہ رہے

دے کے جاں اس لئے لیتا ہوں سکون خاطر
دائمی بن کے رہے دولت عاجل نہ رہے

کیوں خفا ہوتے ہو دیوانوں کی خواہش یہ ہے
نغمۂ عشق بنے شور سلاسل نہ رہے

نذر غم اس لئے کی جان حزیں بیدلؔ نے
اس کی گردن پہ کہیں منت قاتل نہ رہے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم