MOJ E SUKHAN

گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو​

گئے تھے شوق سے ہم بھی یہ دنیا دیکھنے کو​
مِلا ہم کو ہمارا ہی تماشا دیکھنے کو​

​کھڑے ہیں راہ چلتے لوگ کتنی خاموشی سے​
سڑک پر مرنے والوں کا تماشا دیکھنے کو​

​بہت سے آئینہ خانے ہیں اس بستی میں لیکن​
ترستی ہے ہماری آنکھ چہرہ دیکھنے کو​

​کمانوں میں کھنچے ہیں تیر، تلواریں چمکتی ہیں​
ذرا ٹھہرو کہاں جاتے ہو، دریا دیکھنے کو​

​خدا نے مجھ کو بن مانگے یہ نعمت دی ہے منظر​
ترستے ہیں بہت سے لوگ ممتا دیکھنے کو​

منظر بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم