MOJ E SUKHAN

گئے دنوں کا حوالہ تھا کام کیا دیتا

غزل

گئے دنوں کا حوالہ تھا کام کیا دیتا
گزر گیا وہ جواب سلام کیا دیتا

دیار شب سے بھی آگے مرا سفر تھا بہت
سو میرا ساتھ وہ ماہ تمام کیا دیتا

میں اس خرابۂ دل کے اجاڑ منظر میں
کسی کو دعوت سیر و قیام کیا دیتا

جو تو نہ آتا تو رنگ فسردگی کے سوا
مری نگاہ کو یہ حسن شام کیا دیتا

شکستہ پائی پہ جب مطمئن تھے راہرواں
میں قافلے کو دعائے خرام کیا دیتا

مجھے خبر ہے سرشت سفال میں ہے زوال
میں اپنے دل کو فریب دوام کیا دیتا

میں کوزہ گر کی دکاں پر رکھا رہا تا عمر
کوئی چراغ شکستہ کے دام کیا دیتا

اسی سے مجھ کو محبت اسی سے نفرت بھی
میں اس تعلق خاطر کو نام کیا دیتا

یہ شہر ہو گیا خالی سخن شناسوں سے
یہاں کوئی مجھے داد کلام کیا دیتا

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم