MOJ E SUKHAN

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے

غزل

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے
کرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتے

ہے اپنی طبیعت میں جو خامی تو یہی ہے
ہم عشق تو کرتے ہیں مگر کم نہیں کرتے

نفرت سے تو بہتر ہے کہ رستے ہی جدا ہوں
بے کار گزر گاہوں کو باہم نہیں کرتے

ہر سانس میں دوزخ کی تپش سی ہے مگر ہم
سورج کی طرح آگ کو مدھم نہیں کرتے

کیا علم کہ روتے ہوں تو مر جاتے ہوں فیصلؔ
وہ لوگ جو آنکھوں کو کبھی نم نہیں کرتے

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم