MOJ E SUKHAN

گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں

گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں
ممکن ہے کہ پھر ورطہء حیرت سے نکل آؤں

پہلے تو میں عادت سے نکل آتا تھا باہر
ہو سکتا ہے اس بار میں وحشت سے نکل آؤں

جی چاہے تو اک بار ذرا پھینک لے پانسہ
شاید کہیں اب میں تیری قسمت سے نکل آؤں

یہ مجھ میں چونکانے کی عادت ہے عجب ہے
ہو سکتا ہے اب میں تیری بیعت سے نکل آؤں

ممکن ہے کہ حالات کا ادراک بھی ہو جائے
اک بار ذرا نشہ ء نصرت سے نکل آؤں

لوگوں کی نظر میں قمر آ سکتا ہوں میں بھی
گر میں ترے سائے، تری قربت سے نکل آؤں

اقبال قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم