MOJ E SUKHAN

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا
کہ اب مزاج بنا لیجیئے شکاری کا

ہم احترمِ محبت میں ‌سر جکھاتے ہیں
غلط نکال نہ مفہوم خاکساری کا

وہ باد شاہ بنے بیٹھے ہیں مقدر سے مگر
مزاج ان کا ہے اب تک وہی بھکاری کا

سب اس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھنے لگتے ہیں
وہ ایک ڈھونگ رچاتا ہے شرم ساری کا

جنہیں بلندی پہ پہنچنا ہے جست بھرتے ہیں
وہ انتظار نہیں کرتے کھبی اپنی باری کا

منظر بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم