MOJ E SUKHAN

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر

غزل

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر
چلا ہے کوئی ترکش میں قفس کی تیلیاں بھر کر

کھڑے ہو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو
کوئی بیٹھا ہوا ہے بادلوں میں بجلیاں بھر کر

یہاں تو حرف کا ہونٹوں پہ آتے دم نکلتا ہے
دل دیوانہ دامن میں چلا ہے عرضیاں بھر کر

تبسم زیر لب بھی عشق کو موج تسلی ہے
سمندر سو گیا دامن میں خالی سیپیاں بھر کر

کسی نے جب دل برباد کا احوال پوچھا ہے
بگولے رہ گزر کی خاک لائے مٹھیاں بھر کر

ہمارے شوق کا حاصل ہے یہ اب کوئی کیا ٹھہرے
کھڑے ہیں جیب میں دامن کی اپنے دھجیاں بھر کر

محمد رئیس علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم