MOJ E SUKHAN

گلشن دل میں ملے عقل کے صحرا میں ملے

گلشن دل میں ملے عقل کے صحرا میں ملے
جو بھی ملنا ہے ملے اور اسی دنیا میں ملے

برہمی انجمن شوق کی کیا پوچھتے ہو
دوست بچھڑے ہوئے اکثر صف اعدا میں ملے

آنے والوں نے مرے بعد گواہی دی ہے
کئی گلزار مرے نقش کف پا میں ملے

یوں بھی گزری ہے کہ چھائے رہے بیداری پر
نیند آئی تو وہ غم خواب کی دنیا میں ملے

نہیں معلوم کہ کیا دیکھنے آئے تھے ادھر
بے اجر لوگ بہت شہر تماشا میں ملے

پھر امیدوں نے یہیں گاڑ دیے ہیں خیمے
رنگ کچھ اڑتے ہوئے دامن صحرا میں ملے

فاصلوں سے نہ مرے شوق کی منزل ناپو
شش جہت صید مرے دام تمنا میں ملے

سید احتشام حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم