MOJ E SUKHAN

گمشدہ تنہائیوں کی رازداں اچھی تو ہو

غزل

گمشدہ تنہائیوں کی رازداں اچھی تو ہو
میں یہاں اچھا نہیں ہوں تم وہاں اچھی تو ہو

وقت رخصت بھیگے بھیگے ان دریچوں کی قسم
نور پیکر چاند صورت گلستاں اچھی تو ہو

تھرتھراتے کانپتے ہونٹوں کو آیا کچھ سکوں
اے زباں رکھتے ہوئے بھی بے زباں اچھی تو ہو

دھوپ نے جب آرزو کے جسم کو نہلا دیا
بن گئی تھیں تم وفا کا سائباں اچھی تو ہو

رات بھر چلے وظیفے وہ تہجد اور فجر
مل گیا اب تو صلہ اے میری ماں اچھی تو ہو

اس زمانے میں جب اپنوں کا بھروسہ ہو فریب
سوچتی رہتی ہو میں جاؤں کہاں اچھی تو ہو

جھلملاتے ہیں ستارے رات کو پلکوں پہ جب
چاند سے سنتی ہو میری داستاں اچھی تو ہو

وہ تمہاری اک سہیلی بن گئی تھی جو دلہن
اس سے خط لکھ کر کبھی پوچھا نہاں اچھی تو ہو

جب کہیں جاؤ تو لکھ دینا مجھے اپنا پتہ
پوچھنے ورنہ میں جاؤں گا کہاں اچھی تو ہو

تم سدا اچھی رہو آذرؔ کی ہے بس یہ دعا
فاصلے صدیوں کے ہیں اب درمیاں اچھی تو ہو

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم