MOJ E SUKHAN

گناہوں سے نشو نما پاگیا دل

گناہوں سے نشو نما پاگیا دل
در پختہ کاری پہ پہنچا گیا دل

اگر زندگی مختصر تھی تو پھر کیا
اسی میں بہت عیش کرتا گیا دل

یہ ننھی سی وسعت یہ نادان ہستی
نئے سے نیا بھید کہتا گیا دل

نہ تھا کوئی معبود ،پر رفتہ رفتہ
خود اپنا ہی معبود بنتا گیا دل

نہیں گریہ و خندہ میں فرق کوئی
جو روتا گیا دل تو ہنستا گیا دل

پریشاں رہا آپ تو فکر کیا ھے
ملا جس سے بھی اس کو بہلا گیا دل

کئ راز پنہاں ھیں لیکن کھلیں گے
اگر حشر کے روز پکڑا گیا دل

بہت ہم بھی چالاک بنتے تھے لیکن
ہمیں باتوں باتوں میں بہکا گیا دل

کہی بات کام کی جب میرا جی نے
وہیں بات کو جھٹ پلٹا گیا دل

میرا جی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم