غزل
گولی چلے تو موت کی چہکار دیکھنا
دہشت زدہ پرند کی رفتار دیکھنا
ماتم لباس سطروں کو خونبار دیکھنا
ژندہ رہو تو صبح کے اخبار دیکھنا
اتریں گی آسمان سے ناراض بارشیں
بہہ جائیں گے مکاں یہ شجر وار دیکھنا
اک چیخ دانت پیستے پہیوں میں گھٹ گئی
غرا کے جھپٹی، پھر وہ، نئی کار، دیکھنا
اک خواب، اور وہ بھی لگاتار دیکھنا
شیشوں میں بند دھند کے اشجار دیکھنا
پھیلے گی، میری بانہوں میں انگور کی مہک
اس کے بدن میں شہد کی انہار دیکھنا
کھیلیں گے ہر طرف یہاں تالی بجاتے خواب
بارود کا گرے گا یہ پندار دیکھنا
زاہد حسین جوہری