غزل
گُل سے ملتے ہی مہکنے کا ہنر لے آئے
جیسی صحبت میں رہے ویسا اثر لے آئے
ذائقہ موت کا چکھنا اُسے لازم ہو گا
چاہے لکھوا کے کوئی عمرِ خضرؑ لے آئے
ہم سا تاجر بھی زمانے میں کوئی ہو گا بَھلا
پھول بیچے تھے مگر زخمِ جگر لے آئے
اُس کے آنے سے اُجالا ہُوا گھر میں ایسا
جیسے آنگن میں کوئی شمس و قمر لے آئے
لوگ کہنے لگے جب سرمدؔ و منصورؔ ہمیں
ہم پرکھنے کو سرِ دار یہ سر لے آئے
کچھ تو درکار تھا اِس گھر کی حفاظت کے لیے
چھوڑ دیں آنکھیں وہیں، حُسنِ نظر لے آئے
زخمِ دل، سوزِ جگر، کارِ جنوں، تنہائی
مکتبِ عشق سے چُن چُن کے گہر لے آئے
شاعر علی شاعر