MOJ E SUKHAN

گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں

گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں
ستمگر پھول سے بچوں کی مائیں چھین لیتے ہیں

ہمارے بادشاہوں کو ہے نفرت شورِ سے اتنی
کہ مظلوموں سے رونے کی صدائیں چھین لیتے ہیں

کہیں ہیں کفر کے فتوے کہیں شور ملامت ہے
خدا جب لوگ بن جائیں جزائیں چھین لیتے ہیں

الٰہی تیری بستی میں یہ کیسے لوگ بستے ہیں
سروں پر ہاتھ رکھتے ہی ردائیں چھین لیتے ہیں

کسی مفلس کی مجبوری کسی کی بھوک کا سودا
خدا کے نام پر ظالم قبائیں چھین لیتے ہیں

زبانِ نرم سے کرتے ہیں پہلے پیار کی باتیں
بلا کے پاس پھر جبراً حیائیں چھین لیتے ہیں

مری کھڑکی کے آگے لوگ دیواریں اٹھاتے ہیں
مرے کمرے کے حصے کی ہوائیں چھین لیتے ہیں

محبت ڈھیر پر کچرے کے ہر اک جا بلکتی ہے
کہ تہمت بانٹنے والے وفائیں چھین لیتے ہیں

بتاو کس طرح تشؔنہ یہاں سیراب ہو کوئی
سمندر خشک صحرا سے گھٹائیں چھین لیتے ہیں

حمیرہ گل تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم