MOJ E SUKHAN

گھر میرے آتے آتے وہ دلبر پلٹ گیا

غزل

گھر میرے آتے آتے وہ دلبر پلٹ گیا
وہ کیا پلٹ گیا کہ مقدر پلٹ گیا

ہنگام قتل دیکھنے پائے نہ شکل ہم
تلوار مار کر وہ ستم گر پلٹ گیا

مجھ سے فقیر کو نہ دیا چین عشق نے
تکیہ الٹ گیا کبھی بستر پلٹ گیا

اے یار دیکھ کر تری قامت کی راستی
گلزار میں ہر ایک صنوبر پلٹ گیا

ناراض ہو کے پھر جو گئے تم شب وصال
میرا نصیب اے مہ انور پلٹ گیا

آنکھیں پھرا کے تم نے دکھایا جو خال و خد
برہم کچہری ہو گئی دفتر پلٹ گیا

کیا سرنگوں زمانہ ہوا میرے سامنے
سر پر ہر ایک شاہ کے افسر پلٹ گیا

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم