MOJ E SUKHAN

گھر میں کسی نمائشی سامان کے لئے

گھر میں کسی نمائشی سامان کے لئے
گھر سے نکل پڑا ہوں بیابان کے لئے

اس نے جو پوچھا ہاتھ میں کس کے لئے ہیں پھول
دے کر میں اس کو بولا، مری جان کے لئے

فاقہ کشی کا غم نہیں، کرتا ہو کلف دار
ہم مر ر ھے ہیں اپنی اسی شان کے لئے

اب کے چمن میں آیا ھے یوں موسم۔بہار
زخموں کے پھول چن لئے گلدان کےلئے

خاموش آج وہ بھی ھے معمول کے خلاف
تیار آج میں بھی ہوں طوفان کے لئے

لاشوں میں ایک لاش تو تیری بھی ھے سہیل
پر تیرا کون آئے گا پہچان کے لئے

سہیل اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم