MOJ E SUKHAN

گھنگرو پہ بات کر نہ تو پائل پہ بات کر

غزل

گھنگرو پہ بات کر نہ تو پائل پہ بات کر
مجھ سے طوائفوں کے مسائل پہ بات کر

فٹ پاتھ پر پڑا ہوا دیوان میر دیکھ
ردی میں بکنے والے رسائل پہ بات کر

اس میں بھی اجر ہے نہاں نفلی نماز کا
مسجد میں بھیک مانگتے سائل پہ بات کر

میرا دعا سے بڑھ کے دوا پر یقین ہے
مجھ سے وسیلہ چھوڑ وسائل پہ بات کر

آ میرے ساتھ بیٹھ مرے ساتھ چائے پی
آ میرے ساتھ میرے دلائل پہ بات کر

سردار ہیں جو آج وہ غدار تھے کبھی
جا ان سے ان کے دور اوائل پہ بات کر

واصفؔ بھی سالکوں کے قبیلے کا فرد ہے
واصفؔ سے عارفوں کے شمائل پہ بات کر

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم