MOJ E SUKHAN

ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی

غزل

ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی
ذہن میں کچھ لکیریں تھیں خاکہ نہ تھا کچھ نشاں تھے نظر میں علامت نہ تھی

زرد پتے کہ آگاہ تقدیر تھے ایک زائل تعلق کی تصویر تھے
شاخ سے سب کو ہونا تھا آخر جدا ایسی اندھی ہوا کی ضرورت نہ تھی

اک رفاقت تھی زہریلی ہوتی ہوئی راستہ منتظر خود دوراہے کا تھا
پھر وہ اک دوسرے سے جدا ہو گئے دونوں چپ تھے کہ دونوں کو حیرت نہ تھی

ایک آراستہ گھر میں تھا کب سے میں ایک صد برگ منظر میں تھا کب سے میں
میری خاطر تھیں کیا کیا ہنر کاریاں اک نظر دیکھنے کی بھی فرصت نہ تھی

آج رکھا ہے لمحہ ترے ہاتھ پر لمس اول کی لذت کو محفوظ کر
کل نہ کہنا فلک خوش تعاون نہ تھا کل نہ کہنا زمیں خوبصورت نہ تھی

کتنا پانی بہا لے گئی ہے ندی کتنے منظر اڑا لے گئی ہے ہوا
اک خزانہ کہ اب تک نہ خالی ہوا اک زیاں تھا کہ جس کی شکایت نہ تھی

ایک اک لفظ کے سینۂ زرد سے فصل صد رنگ معنی اگانا پڑی
اپنی تقدیر میں کوئی ورثہ نہ تھا نام اپنے کوئی بھی وصیت نہ تھی

راجیندر من چندا بانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم