MOJ E SUKHAN

ہجر سے اب کے شروع ایک کہانی کرنا

ہجر سے اب کے شروع ایک کہانی کرنا
اور مکمل بھی اسے میری زبانی کرنا

پہلے جلنا ہے جسے اپنی چتا میں اس کو
پھر کسی برف کے پیکر کو ہے پانی کرنا

یہ محبت ہے کسی وحشی قبیلے کا دھرم
اپنے ہاتھوں سے وداع اپنی جوانی کرنا

آج جنگل سے بلا لائے ہیں جگنو ہم نے
ٹھان لی اب کہ یہیں شام سہانی کرنا

گاوں سے پہلے اڑا دینا پرندے سارے
پھر بیاں خالی منڈیروں کی کہانی کرنا

پہلے کرنا ہے تجھےخواب جزیرے کا سفر
پھر کسی ہاتھ روانہ وہ نشانی کرنا

کرنا احوال بیاں شازیہ تنہائی کا جب
اس میں شامل کسی خلوت کے معانی کرنا

شازیہ اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم