MOJ E SUKHAN

ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا

غزل

ہجر کی بے تابیاں تھیں حسرتوں کا جوش تھا
حسن کا آغوش پھر بھی حسن کا آغوش تھا

ہم تو جس محفل میں بیٹھے شغل ناؤ نوش تھا
زندگی میں موت بھی آئے گی کس کو ہوش تھا

ضبط کرتے کرتے آخر پھوٹ نکلی دل کی بات
ہنس پڑا گلشن میں جو بھی غنچۂ خاموش تھا

احترام حسن کہئے یا اسے رعب جمال
ان کا پردے سے نکلنا تھا کہ میں بے ہوش تھا

مجھ سے پوچھو سرگزشت مے کدہ بادہ کشو
تھا کبھی میرا بھی عالم میں بھی بادہ نوش تھا

لغزشیں میری مسلم ابتدائے عشق میں
آپ کو بھی کچھ خبر تھی آپ کو بھی ہوش تھا

عشق کا اعجاز تھا یہ عشق کی تاثیر بھی
دل سے جو نالہ نکلتا تھا سکون گوش تھا

کوئی کیا سمجھا مری دیوانگی کو کیا خبر
آپ کی نظروں میں تھا اتنا تو مجھ کو ہوش تھا

آج تسبیح و مصلیٰ لے کے عارفؔ بن گیا
کل جو روح مے کدہ تھا رند و بادہ نوش تھا

عارف نقشبندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم