غزل
ہجوم غم میں بھی ہوتی ہے جب چبھن تنہا
جبین شوق پہ آتی ہے پھر شکن تنہا
بہار آتے ہی پھر قصۂ گل و بلبل
خزاں کا جور اٹھاتا رہا چمن تنہا
فسانے جرأت و ہمت کے ہیں بہت لیکن
جہان عشق میں فرہاد کوہکن تنہا
اسی کے نور سے ظلمت کدے منور ہیں
جو بن کے جلتا رہا شمع انجمن تنہا
خدا کی ذات تو سب پر ہے مہرباں لیکن
بتوں کا آج بھی وارث ہے برہمن تنہا
خلوص و مہر و مروت بہت ضروری ہے
بدل نہ پائے گا ذہنوں کو حسن ظن تنہا
ہر ایک دور میں رہتا ہے حکمراں بسملؔ
خیال و خواب کی دنیا میں فکر و فن تنہا
بسمل اعظمی