MOJ E SUKHAN

ہجوم غم میں بھی ہوتی ہے جب چبھن تنہا

غزل

ہجوم غم میں بھی ہوتی ہے جب چبھن تنہا
جبین شوق پہ آتی ہے پھر شکن تنہا

بہار آتے ہی پھر قصۂ گل و بلبل
خزاں کا جور اٹھاتا رہا چمن تنہا

فسانے جرأت و ہمت کے ہیں بہت لیکن
جہان عشق میں فرہاد کوہکن تنہا

اسی کے نور سے ظلمت کدے منور ہیں
جو بن کے جلتا رہا شمع انجمن تنہا

خدا کی ذات تو سب پر ہے مہرباں لیکن
بتوں کا آج بھی وارث ہے برہمن تنہا

خلوص و مہر و مروت بہت ضروری ہے
بدل نہ پائے گا ذہنوں کو حسن ظن تنہا

ہر ایک دور میں رہتا ہے حکمراں بسملؔ
خیال و خواب کی دنیا میں فکر و فن تنہا

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم