MOJ E SUKHAN

ہر آدمی یہ تلاش کرتا ہے کیا تھا ارض وسما سے پہلے

ہر آدمی یہ تلاش کرتا ہے کیا تھا ارض وسما سے پہلے
ہے کتنا ناداں کہ ڈھونڈتا ہے جہاں میں کیا تھا خدا سے پہلے

بتوں سے دل کا بھرا تھا کعبہ ہر اک پہ کتنا فریفتہ تھا
نظر میں رستے تھے نہ ہی منزل قیام ِ حسنِ ادا سے پہلے

مجھے یوں محدود کر دیا ہے ، اسیرِشام و سحر ہو ا ہوں
ہزار رنگوں میں تھا چھلکتا ، میں تیری نظر وفا سے پہلے

جمی ہیں شعروں کی محفلیں بھی نکھا ر آیا بہار آئی
سکوت شعر وسخن پہ طاری تھا تیرے حرف دعا سے پہلے

نہ کوئی شکوہ نہ کوئی الفت نہ کوئی رستہ نہ کوئی منزل
کہ رسم الفت نبھا رہا ہوں میں رسمِ ترکِ وفا سے پہلے

عجب مصائب میں گھر گئی ہے یہ زندگی کیسے موڑ پر ہے
خدایا اب امتحاں نہ لینا تو میرا روزِ فنا سے پہلے

مراد ؔ خود کو میں ڈھونڈتاہوںسراغ میرا کہیں نہیں ہے
متاعِ ہستی تو لٹ گئی تھی کسی کی پہلی ادا سے پہلے

شفیق مراد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم