MOJ E SUKHAN

ہر اک کو اس کی کمائی پلٹ کے آتی ہے

ہر اک کو اس کی کمائی پلٹ کے آتی ہے
بھلائی ہو کہ برائی پلٹ کے آتی ہے

جو بات کی تھی کسی پر وہ اب سنو بھی سہی
کہا نہ تھا کہ یہ بھائی پلٹ کے آتی ہے

میں اس کے عکس کو دیوار پر لگاؤں ذرا؟
دکھاؤں؟ کیسے خدائی پلٹ کے آتی ہے؟

کسی کو آئینہ جب بھی دکھائیں بدلے میں
ادھر سے تلخ نوائی پلٹ کے آتی ہے

صغیر دل ہے کہ خالی مکان ہے کوئی
کہ آہ بن کے دہائی، پلٹ کے آتی ہے

صغیر احمد صغیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم