MOJ E SUKHAN

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے

غزل

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے
جواب پی لیے مگر سوال جاگتے رہے

ہماری پتلیوں پہ خواب اپنا بوجھ رکھ گئے
ہم ایک شب نہیں کہ ماہ و سال جاگتے رہے

گزار کے وہ ہجرتیں عجیب زخم دے گئیں
ملے بھی اس کے بعد پر ملال جاگتے رہے

بس ایک بار یاد نے تمہارا ساتھ چھو لیا
پھر اس کے بعد تو کئی جمال جاگتے رہے

کمال بے کلی سہی عجیب رت جگے کئے
ہمارے جسم نیند سے نڈھال جاگتے رہے

کوئی جواز ڈھونڈتے خیال ہی نہیں رہا
تمام عمر یونہی بے خیال جاگتے رہے

ثروت زہرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم