MOJ E SUKHAN

ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھی

ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھی
کہ کھو نہ جاؤں اندھیرے میں سوچنا ہے ابھی

تمام عمر وہ چلتا رہا ہے صحرا میں
گھنے درخت کے سائے میں جو کھڑا ہے ابھی

سکون تیرے تصور سے جس کو ملتا ہے
وہ تیری دید کو لیکن تڑپ رہا ہے ابھی

ہر ایک شخص کے چہرے پہ خوف طاری ہے
نہ جانے کون اندھیرے میں چیختا ہے ابھی

وہ کھو گیا ہے کہیں بھیڑ میں تو کیا کیجئے
جو دکھ ہے اس کے نہ ملنے کا وہ جدا ہے ابھی

ٹھہر گئے ہو سر راہ کس لئے آخر
چلے بھی جاؤ کہ کوئی بلا رہا ہے ابھی

دریچہ کھول کے نیرؔ نہ دیکھیے باہر
لہولہان مناظر کا سلسلہ ہے ابھی

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم