MOJ E SUKHAN

ہر ایک پل سے جواں رس نچوڑتے جاؤ

ہر ایک پل سے جواں رس نچوڑتے جاؤ
دلوں سے درد کا ناطہ بھی جوڑتے جاؤ

اگر سکوت ہے لازم ، زباں سے کچھ نہ کہو
مگر نظر سے دلوں کو جھنجوڑتے جاؤ

وہ کیا شراب جو ہر ہوش چھین لے ہم سے
بھرے ہیں جام تو ہر جام توڑتے جاؤ

لہو کی بُوند بھی کانٹوں پہ کم نہیں ہوتی
کوئی چراغ تو صحرا میں چھوڑتے جاؤ

زمانہ یاد رکھے گا ، تو کس بہانے سے
کوئی تو شعر دماغوں میں چھوڑتے جاؤ

کسی کا درد ہو اپنا ہی درد ہے یارو
جہاں جہاں بھی ملے غم بٹوڑتے جاؤ​

جاں نثار اختر​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم