MOJ E SUKHAN

ہر برہمن بت ہر اک مسلم خدا لے جائے گا

غزل

ہر برہمن بت ہر اک مسلم خدا لے جائے گا
میرے در سے ہر مریض اپنی دوا لے جائے گا

خود مجھے آنا ہے تیرے پاس یا بردہ ترا
میرے پاس آئے گا اور مجھ کو اٹھا لے جائے گا

میں حد فاصل تک آ پہنچا جو شوق وصل میں
وہ حد فاصل کو اور آگے بڑھا لے جائے گا

مجھ کو جانے کس طرف سے لا رہا ہے راستہ
مجھ کو جانے کس طرف یہ راستہ لے جائے گا

اپنے گھر کے سارے دروازے کھلے رکھتا ہوں میں
جز مرے اس گھر سے کوئی چور کیا لے جائے گا

آئینہ بینی کے بعد آکاشؔ آنکھوں کو سنبھال
ایک بھی آنسو اگر ٹپکا بہا لے جائے گا

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم