MOJ E SUKHAN

ہر رگ خار کی تحویل میں خوں ہے میرا

ہر رگ خار کی تحویل میں خوں ہے میرا
بے کراں دشت دبستان جنوں ہے میرا

نقش موہوم ہے سب وسعت ارض و افلاک
میرے شہپر کے تلے صید زبوں ہے میرا

شاخیں تلوار کی صورت ہیں گل و برگ ہیں سنگ
دل کا یہ نخل گرفتار فسوں ہے میرا

زخم کیا ہے کسی شمشیر نگہ کا اعجاز
اشک کیا ہے ثمر فصل دروں ہے میرا

ہجر کا چاند دہکتا ہوا انگارہ سہی
مگر اس سے بھی کہیں شعلہ فزوں ہے میرا

سب مرے دل پہ کرم اس نگۂ ناز کا ہے
بے قراری ہے مری اور نہ سکوں ہے میرا

غم کا زہراب رگ و پے میں جو اترا عشرتؔ
تب یہ معلوم ہوا مجھ کو وہ کیوں ہے میرا

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم