MOJ E SUKHAN

ہر سمت ہی سے کرب کے نرغے میں آ گیا

غزل

ہر سمت ہی سے کرب کے نرغے میں آ گیا
ماحول زیست ایسے قضیے میں آ گیا

تھا ایک لفظ ہی تو کسی کے کلام میں
وہ جس سے بال قلب کے شیشے میں آ گیا

وہ علم و فن کہ جس کی کوئی انتہا نہیں
سمٹا ہے جب تو دل کے صحیفے میں آ گیا

طوفاں کی نذر میرا سفینہ نہیں ہوا
طوفان خود ہی میرے سفینے میں آ گیا

انعامؔ ہے یہ تیز قدم کاروان عمر
اب منزل اخیر کے زینے میں آ گیا

انعام تھانوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم