MOJ E SUKHAN

ہر سو خوشبو کو فضاؤں میں بکھرتا دیکھوں

ہر سو خوشبو کو فضاؤں میں بکھرتا دیکھوں
جب کسی شاخ پہ اک پھول کو مرتا دیکھوں

اپنی آنکھوں میں نیا خواب سجا لوں کوئی
جب کسی خواب کی تعبیر کو مرتا دیکھوں

اپنے ہمراہ لہو روتی ہوئی آنکھوں پر
نیند کا بوجھ لیے شب کو اترتا دیکھوں

اپنا مٹی کا دیا اور بھی روشن ہو جائے
جب کبھی چاند کو آنگن میں اترتا دیکھوں

کھڑکیاں کھول لوں ہر شام یوں ہی سوچوں کی
پھر اسی راہ سے یادوں کو گزرتا دیکھوں

شمعؔ مت توڑنا احساس کا آئینہ اگر
گزرے وقتوں کا کوئی عکس اترتا دیکھوں

سیدہ نفیس بانو شمع

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم