MOJ E SUKHAN

ہر شخص کو ایسے دیکھتا ہوں

غزل

ہر شخص کو ایسے دیکھتا ہوں
جیسے کہیں دور جا رہا ہوں

دیکھی ہی نہیں خزاں کی صورت
کس گلشن شوق کی ہوا ہوں

خود اپنی نگاہ سے ہوں روپوش
آئنہ ہوں جہاں نما ہوں

بے نور ہوئی ہیں جب سے آنکھیں
آئنے تلاش کر رہا ہوں

ناقدر شناس جوہری کو
راہوں میں پڑا ہوا ملا ہوں

جب رات کی زلف بھیگتی ہے
سناٹے کی طرح گونجتا ہوں

اس دور خزاں نصیب میں بھی
کلیاں سی کھلا کھلا گیا ہوں

آنکھوں میں وحشتیں رچی ہیں
خوابوں میں بھی خاک چھانتا ہوں

ہے چہرہ جو داغ داغ اپنا
ہر آئنے سے خفا خفا ہوں

تلوار پہ رقص کا نتیجہ
جب پاؤں کٹے تو سوچتا ہوں

پردۂ صبا نہ خوف صرصر
خاکستر یاس پر کھلا ہوں

صادق نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم