MOJ E SUKHAN

ہر طرف یار کا تماشا ہے

ہر طرف یار کا تماشا ہے
اس کے دیدار کا تماشا ہے

عشق اور عقل میں ہوئی ہے شرط
جیت اور ہار کا تماشا ہے

خلوت انتظار میں اس کی
در و دیوار کا تماشا ہے

سینۂ داغ داغ میں میرے
صحن گل زار کا تماشا ہے

ہے شکار کمند عشق سراجؔ
اس گلے ہار کا تماشا ہے

سراج اورنگ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم