MOJ E SUKHAN

ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے

ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہے
چشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہے

یہ حجابات تعین مجھے منظور نہیں
فکر آزاد کو بندش کا گماں ہوتا ہے

لطف پیہم نہ سہی جور مسلسل ہی سہی
ہر توجہ پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے

ان کے آگے لب اظہار پہ ہے مہر سکوت
ایک خاموش پرستش کا گماں ہوتا ہے

میں قفس میں ہوں قفس پیش نگاہ صیاد
پر پرواز میں جنبش کا گماں ہوتا ہے

صرف تم دل کی تباہی کا سبب کیا ہوتے
بخت ناساز کی سازش کا گماں ہوتا ہے

بات یہ کیا ہے عروجؔ ان کی ہر اک بات میں آج
اپنی ہر طرز گزارش کا گماں ہوتا ہے

عروج زیدی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم