MOJ E SUKHAN

ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے

غزل

ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے
وہ ساتھ نہ دیں پھر دھوپ تو کیا سائے میں بھی چلنا مشکل ہے

یاران سفر ہیں تیز قدم اے کشمکش دل کیا ہوگا
رکتا ہوں تو بچھڑا جاتا ہوں چلتا ہوں تو چلنا مشکل ہے

اب ہم پہ کھلا یہ راز چمن الجھا کے بہاروں میں دامن
کانٹوں سے نکلنا آساں تھا پھولوں سے نکلنا مشکل ہے

تابانئ حسن عالم ہے گرمئ محبت کے دم سے
پروانے اگر محفل میں نہ ہوں پھر شمع کا جلنا مشکل ہے

ناکامئ قسمت کیا شے ہے کیا چیز شکستہ پائی ہے
دو گام پہ منزل ہے لیکن دو گام بھی چلنا مشکل ہے

یا ہم سے پریشاں خوشبو تھی یا بند ہیں اب کلیوں کی طرح
یا مثل صبا آوارہ تھے یا گھر سے نکلنا مشکل ہے

لکھتے رہے خون دل سے جسے تائید نگاہ دوست میں ہم
اقبالؔ اب اس افسانے کا عنوان بدلنا مشکل ہے

اقبال صفی پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم