MOJ E SUKHAN

ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے

غزل

ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے
انساں کا عکس پھر بھی کئی آئنوں میں ہے

تہذیب کو تلاش نہ کر شہر شہر میں
تہذیب کھنڈروں میں ہے کچھ پتھروں میں ہے

تجھ کو سکوں نہیں ہے تو مٹی میں ڈوب جا
آباد اک جہان زمیں کی تہوں میں ہے

کیسا تضاد ہے کہ فضا ہے دھواں دھواں
اور آگ ہے کہ زیر زمیں خندقوں میں ہے

انسان بے حسی سے ہے پتھر بنا ہوا
منہ میں زبان بھی ہے لہو بھی رگوں میں ہے

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم