MOJ E SUKHAN

  ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

  ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں
وہ خوش نصیب ہیں جو تری رہ گزر میں ہیں

تاکید ضبط عہد وفا اذن زندگی
کتنے پیام اک نگہ مختصر میں ہیں

ماضی شریک حال ہے کوشش کے باوجود
دھندلے سے کچھ نقوش ابھی تک نظر میں ہیں

للہ اس خلوص سے پرسش نہ کیجیئے
طوفان کب سے بند مری چشم تر میں ہیں

منزل تو خوش نصیبوں میں تقسیم ہو چکی
کچھ خوش خیال لوگ ابھی تک سفر میں ہیں

محفل میں ان کی سمت نگاہیں نہ اٹھ سکیں
ہم بالخصوص اہل نظر کی نظر میں ہیں

یہ کیسے راہرو تھے کہ ہر نقش پا کے ساتھ
سجدوں کے کچھ نشان بھی اس رہ گزر میں ہیں

اقبال عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم