MOJ E SUKHAN

ہر کسی سے نہ احتراز کرو

ہر کسی سے نہ احتراز کرو
دوست دشمن میں امتیاز کرو

غیر اپنے کبھی نہیں ہوتے
کیوں انہیں آشنائے راز کرو

جب کسی دل میں گھر بنانا ہو
پہلے نظروں سے ساز باز کرو

تم کہاں وہ نگۂ ناز کہاں
اپنی خوش فہمیوں پہ ناز کرو

سرفرازی اسے نہیں کہتے
سرفرازوں کو سرفراز کرو

کیا تقاضے ہیں وقت کے سرشارؔ
سوز کو آشنائے ساز کرو

جیمنی سرشار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم