MOJ E SUKHAN

ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے

غزل

ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے
اپنے پرائے جانچنے کے تجربے ہوئے

اک ڈائری پرانی مرے ہاتھ کیا لگی
یادوں کے زرد پیڑ یکایک ہرے ہوئے

اے دل سنبھال ضبط کہ پشتے لرز اٹھے
آنکھوں سے بہہ نہ جائیں یہ دریا رکے ہوئے

آنکھوں میں دیکھ شہر خموشاں کا سا سکوت
پلکوں پہ دیکھ غم کے فسانے لکھے ہوئے

بلقیسؔ اک چراغ سر راہ کیا رکھا
بستی کے ہر مکان ہی میں تبصرے ہوئے

بلقیس خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم