MOJ E SUKHAN

ہزار رنگ بدلتا رہا زمانے کا

ہزار رنگ بدلتا رہا زمانے کا
وہ میں کہ رخ نہ کیا میں نے آشیانے کا

ابھی کچھ اور ارادہ ہے مسکرانے کا
ابھی تو میری ہی جانب ہے رخ زمانے کا

تمہارے نام سے منسوب کر رہا ہوں اسے
بڑا حسین ہے عنواں مرے فسانے کا

وہ داغِ دل ہو کہ زخمِ جگر قیامت ہے
چمن کا ذکر کریں ہم کہ آشیانے کا

ہنسو چمن میں ہنسو تم مگر سنبھل کے ہنسو
چرا نہ لے کلی انداز مسکرانے کا

یہ اور بات کہ پاسِ وفا سے لب نہ کھلے
خیال تھا انھیں احوالِ غم سنانے کا

چمک کے برق نے تڑپا دیا قفس میں مجھے
میں خواب دیکھ رہا تھا پھر آشیانے کا

سنا رہا ہوں زمانے کو اے فدا نغمے
بدل رہا ہوں میں ماحول اس زمانے کا۔

فدا خالدی دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم