ہست اور بود ہے کیا دائم و فانی کیا ہے
کوئ بتلاۓ مجھے میری کہانی کیا ہے
میں نہیں ہوں تو یہ اک کربِ مسلسل کیوں ہے
اور اگر ہوں مرے ہونے کی نشانی کیا ہے
جسم میں مد و جزر بن کے لہو کی گردش
موسمِ قریہِ جاں ضعف و جوانی کیا ہے
درد والے تو سمجھتے ہیں محبت کی زباں
ناصحا آپ کی یہ شعلہ بیانی کیا ہے
مدعا گرچہ اشاروں سے ادا ہوجاۓ
اِس سے بہتر کوٸی پیغام رسانی کیا ہے؟
جدِِّ امجد تھے مرے باغِ عدن کے باغی
پھر مرے واسطے یہ نقل مکانی کیا ہے
جون سا مردِ قلندر نہ رہا ورنہ وہ
مجھ سے کہتا تجھے جانی پریشانی کیا ہے
پھر وہی ہجر کے شکوے وہی امیدِ بہار
یہی اندازِ غزل ہے تو سُنانی کیا ہے
رفعت اسلام صدیقی