MOJ E SUKHAN

ہمارا غم جو سنے گی تو شاعری ہوگی

ہمارا غم جو سنے گی تو شاعری ہوگی
وہ درد اپنا کہے گی تو شاعری ہوگی

تکلفات سے ملنا ہمیں گوارہ نہیں
بدن میں آگ لگے گی تو شاعری ہوگی

خوشی کے لمحے غمِ زندگی بڑھاتے ہیں
اداسی حد سے بڑھے گی تو شاعری ھوگی

ترے ہی غم میں بھٹکتا ہوں در بدر جاناں
غموں کی دھوپ ڈھلے گی تو شاعری ھوگی

لکھا ہوا ہے ہر اک درد میرے چہرے پہ
وہ میرا درد پڑھے گی تو شاعری ھوگی

بڑے دنوں سے ہے شائق شہاب جاگا ہوا
جب اس کی آنکھ لگے گی تو شاعری ہوگی

(سید شائق شہاب)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم