MOJ E SUKHAN

ہمارا نام پکارے ہمارے گھر آئے

ہمارا نام پکارے ہمارے گھر آئے
یہ دل تلاش میں جس کی ہے وہ نظر آئے

نہ جانے شہر نگاراں پہ کیا گزرتی ہے
فضائے دشت الم کوئی تو خبر آئے

نشان بھول گئی ہوں میں راہ منزل کا
خدا کرے کہ مجھے یاد رہ گزر آئے

میں آندھیوں میں بھی پھولوں کے رنگ پڑھ لوں گی
ترے بدن کی مہک لوٹ کر اگر آئے

غبار غم کا دیار وفا میں اڑتا ہے
مگر یہ اشک بہت کام چشم تر آئے

سفر کا رنگ حسیں قربتوں کا حامل ہو
بہار بن کے کوئی اب تو ہم سفر آئے

نئی سحر کا میں گلنارؔ استعارہ ہوں
فضائے تیرہ شبی ختم ہو سحر آئے

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم