ہمارے بعد بھی جاری یہ سلسلہ ہوگا
فرازِ دار پہ حیدر کا تذکرہ ہوگا
علیؑ سے عشق کی تجدید کر رہی ہوں میں
قریبِ دار بھی میثم نے یہ کہا ہوگا
صراطِ عشق سے جس اعتماد سے گزرے
شعورِ حُبِ علیؑ اور بھی بڑھا ہوگا
انہیں خبر تھی پسِ کاروانِ موسمِ گُل
کہیں خزاں کا دریچہ بھی نیم وا ہوگا
صدا نہ دینا کہ تسبیحِ فکر ٹوٹ نہ جائے
ابھی حروفِ نگارش کا در کھلا ہوگا
تجلیوں کے مُجلّے ہیں قصرِ زہراؑ میں
یہ آسمانِ شرف پر لکھا گیا ہوگا
جو کر رہا تھا مُسلسل سوال بیعت کا
وہ جانتا تھا کہ اس کا جواب کیا ہوگا
صفِ رسول و صفِ انبیاء کھڑی ہوئی ہے
نظر میں سجدہءِ آخر کا مرحلہ ہوگا
وہ اعتبار کہ اس شب جو حاصلِ شب تھا
تو پھر چراغ جلا کر بُجھا دیا ہوگا
وہ رات جس میں پسِ پردہءِ گماں تھا یقیں
کتابِ عشق کا عنواں لکھا گیا ہوگا
نمازِ شکر کا سجدہ جو زیرِ تیغ ہوا
وہ بندگی کو سر افراز کر گیا ہوگا
منا رہا ہے ابھی جشنِ فتح اس کے بعد
یزید کرب و اذیت میں مبتلا ہو گا
جنونِ عشق کی بازی لگا گیا تھا حُر
وہ جانتا تھا یہی حق کا راستہ ہوگا
کھڑی ہوں وادیءِ ایقاں میں مَیں مریضِ غم
علیؑ کا اسم ہی بس باعثِ شفا ہوگا
پروین حیدر