MOJ E SUKHAN

ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملی

غزل

ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملی
یا رب صلہ ملا ہے مجھے یا سزا ملی

اس آدمی کو جانئے سب کچھ ہی مل گیا
جس آدمی کو دولت شرم و حیا ملی

کچھ لوگوں کی شکایتیں ہوں گی بجا مگر
ہم کو تو دوستی میں ہمیشہ وفا ملی

پی جائیں خم کے خم ہی جو پیر مغاں انہیں
پیمانوں میں شراب ملی بھی تو کیا ملی

اڑنے سے روک لیں مری کمزوریاں مجھے
بے شک ہزار بار موافق ہوا ملی

کس کام کا وہ آدمی اس دور میں جئے
انداز صوفیانہ نظر پارسا ملی

وہ شخص معتبر ہوا اجمیر جو گیا
ندیا ہوئی نہال جو گنگا میں جا ملی

پروازؔ خوش نصیب ہے وہ آدمی جسے
رہبر ملا درست نصیحت بجا ملی

درشن دیال پرواز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم