غزل
ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملی
یا رب صلہ ملا ہے مجھے یا سزا ملی
اس آدمی کو جانئے سب کچھ ہی مل گیا
جس آدمی کو دولت شرم و حیا ملی
کچھ لوگوں کی شکایتیں ہوں گی بجا مگر
ہم کو تو دوستی میں ہمیشہ وفا ملی
پی جائیں خم کے خم ہی جو پیر مغاں انہیں
پیمانوں میں شراب ملی بھی تو کیا ملی
اڑنے سے روک لیں مری کمزوریاں مجھے
بے شک ہزار بار موافق ہوا ملی
کس کام کا وہ آدمی اس دور میں جئے
انداز صوفیانہ نظر پارسا ملی
وہ شخص معتبر ہوا اجمیر جو گیا
ندیا ہوئی نہال جو گنگا میں جا ملی
پروازؔ خوش نصیب ہے وہ آدمی جسے
رہبر ملا درست نصیحت بجا ملی
درشن دیال پرواز