MOJ E SUKHAN

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے

غزل

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے
بدن پر اک پھٹی لنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن
پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

ادھر میں کثرت اولاد سے لاغر ادھر ان کی
زباں پر ترش نارنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

بنا ہیرو سے زیرو اور پھر نیتا تو کاندھے پر
وہی اک شال بے رنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

نہیں ہوتی تو اچھا تھا مگر فرقہ پرستوں میں
وہ یک جہتی ہم آہنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

سیاست میں تعصب کا دخل ہونے لگا جب سے
دلوں میں آ گئی تنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

جنہیں جنتا کی فکر عافیت میں گھل کے مرنا تھا
صحت ان کی بھلی چنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

لباس مختصر میں بھی تن آسانی کے خواہاں ہیں
کریں کیا آتما ننگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

ضرورت امن کی دنیا میں پہلے سے زیادہ ہے
مگر قیمت بہت مہنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

اہنسا کے پس پردہ بہت زوروں پہ تیاری
امن کے نام پر جنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

ہوا ہے اور نہ ہوگا کچھ اثر مجھ پر ضعیفی کا
خیالوں میں یہ نیرنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

زمانے کا چلن کیا پوچھتے ہو ؔخواہ مخواہ مجھ سے
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم