MOJ E SUKHAN

ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا

غزل

ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا
کسی نے خط نہیں کھولا ہمارا

پڑھائی چل رہی ہے زندگی کی
ابھی اترا نہیں بستہ ہمارا

معافی اور اتنی سی خطا پر
سزا سے کام چل جاتا ہمارا

کسی کو پھر بھی مہنگے لگ رہے تھے
فقط سانسوں کا خرچہ تھا ہمارا

یہیں تک اس شکایت کو نہ سمجھو
خدا تک جائے گا جھگڑا ہمارا

طرف داری نہیں کر پائے دل کی
اکیلا پڑ گیا بندہ ہمارا

تعارف کیا کرا آئے کسی سے
اسی کے ساتھ ہے سایہ ہمارا

نہیں تھے جشن یاد یار میں ہم
سو گھر پر آ گیا حصہ ہمارا

ہمیں بھی چاہیے تنہائی شارقؔ
سمجھتا ہی نہیں سایہ ہمارا

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم