MOJ E SUKHAN

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے

غزل

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے
بہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گے

ابھی کچھ اور کرتب دیکھنے بھی ہیں دکھانے بھی
تماشہ گاہ عالم ہم تجھے آباد رکھیں گے

اگر گھر کا خیال آیا تو رستہ بھول جائیں گے
سفر میں دشت کو جاتے ہوئے ہم یاد رکھیں گے

مقابل آئیں گے ہر بار تازہ حوصلہ لے کر
تجھے ہم آزمائش میں ستم ایجاد رکھیں گے

پرانی ہو گئی دنیا اسے مسمار کرنا ہے
نئی تعمیر کی خاطر نئی بنیاد رکھیں گے

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم