MOJ E SUKHAN

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے
دو گنہ گار زہر کھا بیٹھے

حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے
تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے

آندھیو جاؤ اب کرو آرام
ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے

جی تو ہلکا ہوا مگر یارو
رو کے ہم لطف غم گنوا بیٹھے

بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا
گھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے

جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہم
سب نے چھیڑا تو لب ہلا بیٹھے

ہم رہے مبتلائے دیر و حرم
وہ دبے پاؤں دل میں آ بیٹھے

اٹھ کے اک بے وفا نے دے دی جان
رہ گئے سارے با وفا بیٹھے

حشر کا دن ابھی ہے دور خمارؔ
آپ کیوں زاہدوں میں جا بیٹھے

خمار بارہ بنکوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم