MOJ E SUKHAN

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
بنے پھر ان کے ہم سفر مذاق ہی مذاق میں

پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں

ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں

لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
ابل پڑے کئی گٹر مذاق ہی مذاق میں

اٹھو کہ اب نماز فجر کے لیے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں

یہاں عنایتؔ آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں

عنایت علی خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم